
تحریر: بشارت کھوکھر
پاکستان کے قیام کے بعد سے خارجہ پالیسی کے میدان میں جو اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ریاست کے اندرونی سیاسی ڈھانچے اور قیادت کے مزاج کا براہِ راست اثر عالمی سطح پر اس کی پہچان اور تعلقات پر پڑتا ہے۔
👑 آمریت کا سایہ اور خارجہ پالیسی کی تنزلی
پاکستان کی تاریخ کا بڑا حصہ آمریت کے زیرِ اثر رہا ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق، اور جنرل مشرف جیسے فوجی حکمرانوں کے ادوار میں انسانی حقوق کی پامالی، جمہوری اداروں کی کمزوری، اور عالمی تنہائی ایک تلخ حقیقت رہی ہے۔ فوجی حکومتوں کے دور میں اکثر خارجہ پالیسی قومی مفاد کے بجائے ادارہ جاتی مفاد پر مبنی رہی، جس نے پاکستان کو نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ علاقائی تنہائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
🟢 جمہوری ادوار اور خارجہ تعلقات کی بحالی
جب بھی جمہوریت کو سانس لینے کا موقع ملا، چند رہنماؤں نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے کی مخلصانہ کوشش کی۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت ہے، جنہوں نے نہ صرف پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی بلکہ اسلامی ممالک کے ساتھ اشتراک کو فروغ دیا۔
🔹 سعودی عرب سے خفیہ معاہدہ: ایک اہم موڑ
ذوالفقار علی بھٹو نے سعودی فرماں روا شاہ فیصل کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا، جس کی تفصیلات آج تک عام نہیں کی گئیں۔ اس معاہدے کا مقصد پاکستان کو اسلامی دنیا کا قلعہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایٹمی پروگرام کو خفیہ مالی معاونت فراہم کرنا بھی بتایا جاتا ہے۔ یہی وہ تعلق ہے جس نے آنے والے کئی عشروں تک سعودی عرب اور پاکستان کو سفارتی طور پر قریب رکھا، باوجود اس کے کہ کچھ فوجی یا سیاسی حلقوں نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
چین: ایک ہمہ وقت دوست
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کی شمولیت ایک مستقل ستون کی مانند رہی ہے۔ چائنا-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)، دفاعی معاہدے، اور ڈپلومیٹک تعاون نے دونوں ممالک کو قریب رکھا ہے۔ چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب مغربی دنیا نے پاکستان پر سخت مؤقف اپنایا۔
🔴 کمزور ادوار اور کھوئی ہوئی سفارتی زمین
جنرل مشرف کے بعد آنے والی حکومتوں میں خارجہ پالیسی کبھی واضح اور مضبوط رخ اختیار نہ کر سکی۔ داخلی سیاسی انتشار، بدعنوانی، اور ادارہ جاتی کھچاؤ نے پاکستان کو عالمی سطح پر کمزور کیا۔ سفارتی تنہائی، فیٹف کی گرے لسٹ، اور معاشی بحران نے خارجہ پالیسی کو مزید الجھا دیا۔
🟢 بلاول بھٹو زرداری: نوجوان قیادت، نیا چہرہ
تاہم حالیہ برسوں میں، جب پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہونے جا رہا تھا، تو وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ کی ذمہ داری بلاول بھٹو زرداری کے سپرد کی۔ نوجوان بلاول نے روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ایک پرجوش، متحرک، اور وژنری انداز میں عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی۔
انہوں نے یورپی یونین، امریکہ، چین، عرب دنیا، اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا، خصوصاً ماحولیاتی بحران، دہشت گردی، کشمیر، اور انسانی حقوق کے تناظر میں۔ گو کہ ان کے دور میں مکمل سفارتی بحالی ممکن نہیں ہوئی، مگر ایک مثبت سمت کا تعین ضرور کیا گیا ہے۔
🧭 آگے کا راستہ: کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
- بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام کمیونٹیز کی شمولیت — خارجہ پالیسی کی ٹیم میں ہر مذہب، نسل اور قومیت کے افراد شامل ہوں تاکہ دنیا کو پاکستان کا کثیرالثقافتی اور روادار چہرہ نظر آئے۔
- پڑھے لکھے نوجوانوں کی شمولیت — ایسے افراد کو ٹیم کا حصہ بنایا جائے جو عالمی ڈپلومیسی، قانون، اور انسانی حقوق کو سمجھتے ہوں۔
- مذہبی شدت پسندی سے دوری — سفارتی سطح پر پاکستان کو شدت پسند بیانیے سے الگ کر کے ایک معتدل، ترقی پذیر، اور امن پسند ملک کے طور پر پیش کیا جائے۔
- بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شمولیت — وہ تارکین وطن جو دنیا بھر میں پاکستان کا نرم چہرہ پیش کر رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی اور سفارتی عمل میں شمولیت ضروری ہ🇵🇰 نتیجہ:
پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی مکمل کامیاب نہیں رہی، لیکن جب بھی جمہوری قیادت کو موقع ملا، انہوں نے اس کو عزت، توازن اور وژن کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ بلاول بھٹو زرداری جیسے نوجوان رہنما مستقبل میں پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار مقام دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں — شرط صرف یہ ہے کہ انہیں ایک علم پر مبنی، ہم آہنگ، اور شفاف ٹیم دی جائے۔
پاکستان کے ہر شہری، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ملک کے سفارتی تشخص کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
